24 جولائی 2026 - 15:17
پاکستان نے کابل حملے سے متعلق ایمنسٹی کی رپورٹ مسترد کردی، طالبان پر مسلح گروہوں کی سرپرستی کا الزام

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کابل کے "امید" علاج مرکز پر فضائی حملے سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں صرف دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ اسلام آباد نے ساتھ ہی طالبان پر الزام عائد کیا کہ وہ بعض مسلح تنظیموں کو افغانستان میں سرگرمیوں کی اجازت دے رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندربی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کابل کے "امید" منشیات بحالی مرکز پر  ہونے والے فضائی حملے سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے رپورٹ کو "بے بنیاد، شواہد سے عاری اور زمینی حقائق کے منافی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی غیر فوجی مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ معتبر شواہد کے بغیر کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی فوجی کارروائیاں حقِ دفاع کے تحت صرف دہشت گرد عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی جاتی ہیں، لہٰذا کسی طبی مرکز پر حملے کا الزام پاکستان کے فوجی مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

طالبان پر پاکستان کے الزامات

طاہر اندربی نے اپنی گفتگو میں افغان طالبان پر الزام لگایا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے مسلح گروہوں کو افغانستان میں سرگرمیوں کی اجازت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو طالبان سے اس بات پر جواب طلب کرنا چاہیے کہ وہ دوحہ معاہدے کی ذمہ داریوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کے خلاف سرگرم مسلح گروہ افغان سرزمین کو حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

یہ ردِعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کابل کے "امید" علاج مرکز پر پاکستان کا فضائی حملہ، اس مرکز کی غیر فوجی حیثیت اور ہلاکتوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر، ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

تنظیم کے مطابق زمینی تحقیقات، سیٹلائٹ تصاویر اور مرکز کے عملے کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کا فعال طبی مرکز تھا، جہاں فوجی استعمال یا اسلحہ موجود ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حملے کے وقت مرکز میں ایک ہزار سے زائد مریض موجود تھے اور اس کی مرکزی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) نے اس حملے سے متعلق کم از کم 143 افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی ہے، جبکہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ جاں بحق افراد کی تعداد 400 سے زائد ہے۔ تاہم اس واقعے کے حتمی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شہریوں کی بڑی تعداد، پیشگی انتباہ نہ دیے جانے اور وسیع پیمانے پر ہونے والے نقصانات کے پیش نظر اس حملے کی آزاد، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت جاری ہے جب حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں، سلامتی کے مسائل، تحریک طالبان پاکستان اور ایک دوسرے پر مسلح گروہوں کی حمایت کے الزامات کے باعث پاکستان اور طالبان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha